امام جعفر صادق علیہ اسلام کا فرمان
امام جعفر صادق علیہ اسلام کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا اے رسول کے نواسے یہ اُلوں ویران جگہ پر کیوںرہتا ہے تو نوازا رسول انا جعفر صادق علیہ اسلام نے فرمایا اے شخص یہ پرندہ محمد وآلٖ محمد سے پیار کرنے والا ہے اور یہ ہمیشہویران جگہوں پر نہیں رہتا تھا تو اس بندے نے کہا اے رسول کے نواسے آخر ایسا کیا ہوا کے یہ پرندہ ویرانوں میں چلا گیا انسانوںسے دور دور رہتا ہے
امام جعفر صدق علیہ اسلام نے فرمایا اس پرندے کو جب معلوم ہوا کے امام حسین کربلا میں رکے ہیں تو یہ پرندہ دس محرم کی راتکربلا آ پہنچا اور رسول کے نواسے سے ارض کرنے لگا یا حسین ہمارے کیے کیا حکم ہے امام حسین علیہ اسلام نے فرمایا چلے جاؤکیونکے کل اس زمین پے رسول اللہ کی آل کے ساتھ ہوگا وہ تم دیکھ نہیں پاؤ گے اس پرندے نے بہت اسرار کیا
اور بلا آخر ان کو کربلا کے واقعے دیکھنے کی اجازت مل گئی لیکن جب ان پرندو نے علی اصغر کے معصوم گلے پے تیر دیکھا فوج یزیدکا ظلم دیکھا امام حسین کے سر کو کٹا ہوا دیکھا ان کی لاش کو پامال ہوتے ہوۓ دیکھا آل رسول کی بیٹیوں کے حیات کو جلتے ہوۓدیکھا تو ان پرندوں کے دل میں انسانوں کے لیے نفرت بیٹھ گئی اور تبھی سے یہ ویران جگہوں پے رہتے ہیں انسان ذات سے دوررہتے ہیں اندھیرے میاں نکلتے ہیں اور دن کے اجالے میں چھپ جاتے ہیں


Comments
Post a Comment