رب سے مانگو وہ بے شمار دیتا ہے
قرض دنیاں کے وہ اُتار دیتا ہے
گر کھوٹ نا ہو انسان کی نیت میں
قرضِ حسنہ بھی وہ ادھار دیتا ہے
جن کی عادت میں شُکر سما جاتا ہے
اُن کی فطرت میں وہ ایثار دیتا ہے
رکھتے ہیں امید خاموش کھڑے رہتے ہیں
شجرِ ویران کو وہ بہار دیتا ہے
جو ہوتے نہیں مایوس اس کی رحمت سے
اُن صحراؤں کو وہ نکھار دیتا ہے
جن نے مانگا ہے اپنے رب سے سب کچھ
زندگی اس کی وہ سنوار دیتا ہے
اُس کی جانب سے امتحاں آتے ہیں طارق
بُرے وقت کو وہ گزار دیتا ہے


Comments
Post a Comment