حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان
ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا اور ارض کرنے لگا یا علی زہن کی خوراک کیا ہے
تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے اللہ کے رسول سے سنا کے زہن کی خوراک اچھا سوچنا ہے کیوں کے اللہ نےاس پوری کائنات کو انسان کے دماغ سے جوڑے رکھا ہے لیکن افسوس جو انسان اس کائنات کی خلقت کے بارے میں بُرا سوچتےہیں یا لوگو یا چیزوں میں سے عیب نکالتے ہیں تو یوں انسان اپنے دماغ کی طاقتوں کو کم کرتا رہتا ہے اے بندہ خدا اگر انسان اچھیسوچ کے ساتھ اس کائنات میں رہنا شروع کردے تو اللہ انسان کے دماغ کو کائنات پے حکومت عطا کردے گا تو وہ کہنے لگا یا علیاچھا سوچنے سے مراد کیا ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گرمایا اچھا سوچنے سے مُراد معاف کرنا ہے اس کائنات کی ہرخلقت کے کیے امن سلامتی کی سوچ کو مقدم رکھنا ہے
میں نے اللہ کے رسول سے سُنا کے اللہ نے آسمانوں کے بیچ میں فرشتوں کے لیے ایک دروازہ قائم کیا جو ہر اس انسان کے کیےکھلتا کے جس انسان کے دماغ میں اللہ کی مخلوق کے لیے اچھے سوچ ہوتی ہے اور فرشتوں کا کام یہ ہوتا ہے کے وہ کائنات کی ہررحمت کو اس انسان کے قدموں بچھاتے رہے

Comments
Post a Comment